ایران پر امریکی فضائی حملے، پاسدارانِ انقلاب کا امریکی فوجی اڈے پر جوابی میزائل داغنے کا دعویٰ

تہران : امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فضائی معرکے اور حملوں کا دوبارہ آغاز ہو گیا، امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام کی جانب سے ایرانی حدود میں تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، کویت میں جنگی سائرن بج اٹھے۔ عالمی میڈیا کے مطابق مریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تصادم میں اچانک ایک بار پھر سے خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے، امریکی فوج کی جانب سے ایرانی سرزمیں پر حملوں کے بعد تہران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر کویت میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران کے اندر حملوں کی تصدیق کردی۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے شہر گورُک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی ریڈار اور ڈرون تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، یہ کارروائی بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی جانب سے امریکی MQ 1 ڈرون کو نشانہ بنانے سمیت دیگر جارحانہ سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی، اس آپریشن کے دوران امریکی افواج نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن، اور دو یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے، یہ تنصیبات علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے واضح اور بڑا خطرہ تھیں۔
ادھر امریکہ کی اس کارروائی کے محض ایک گھنٹے بعد ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی بھرپور جوابی حملے کا دعویٰ کیا ہے، فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایرو اسپیس فورس کے جنگی طیاروں نے اس امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا، امریکی فوج نے اس سے قبل جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں واقع جزیرہ سیریک کے ایک مواصلاتی ٹاور پر جارحیت کی تھی، جس کے جواب میں ایران نے امریکی اڈے کے مقررہ اہداف کو پاش پاش کر دیا۔
بتایا جارہا ہے کہ اس ہنگامی صورتحال کے بعد کویت بھر میں اچانک جنگی سائرن بج اٹھے، کویتی فوج کے جنرل سٹاف نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام اس وقت متحرک ہے اور آنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کر رہا ہے، شہریوں کو اگر ملک میں دھماکوں کی شدید آوازیں سنائی دیں تو شہری گھبرائیں نہیں، کیونکہ وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے آنے والے معادی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں