واشنگٹن: امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب ایران کے خلاف جنگ کو مزید آگے بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا، تب تک دوبارہ کوئی جنگ شروع نہیں ہوگی، ٹرمپ انتظامیہ اب فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو پہلی ترجیح دے رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دائرے کو مزید پھیلانا نہیں چاہتی۔
بتایا گیا ہے کہ ایران کے محاذ پر نرمی کے ساتھ ہی امریکی حکومت کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ سے ایک اور بڑی کامیابی سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل اور لبنان کے مابین جنگ بندی کا باقاعدہ معاہدہ ہو گیا، امریکہ کی میزبانی اور ثالثی میں واشنگٹن کے مقام پر چوتھے سہ فریقی مذاکرات منعقد ہوئے، جس کے کامیاب اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے مکمل طور پر جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے اور دونوں ممالک نے امن کے قیام کے لیے بات چیت کا سلسلہ مسلسل جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے، دونوں ممالک کے وفود اب اگلے مرحلے کی گفتگو اور معاملات کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے آنے والی 22 جون کو دوبارہ میز پر بیٹھیں گے اور مذاکرات کا اگلا دور شروع کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید جنگ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، امریکی اخبار کا دعویٰ




