امریکہ ایران امن معاہدہ طے پاگیا، 19 جون کو دستخط ہوں گے

تہران/واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا، جس پر 19 جون کو دستخط ہوں گے، 14 شقوں پر مشتمل مسودہ جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا چکا ہے، فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے، امن معاہدے پر دستخطوں کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔
بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے فوراً بعد اس عالمی سٹریٹجک دستاویز کا 14 شقوں پر مشتمل مسودہ باضابطہ طور پر جاری کر دیا گیا ہے، اس مسودے میں جہاں جنگ بندی کے احکامات ہیں، وہاں ایران پر عائد دہائیوں پرانی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور اربوں ڈالر کے فنڈز کی بحالی کا پورا روڈ میپ سامنے آیا ہے۔
اس مسودے کے مندرجات ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک نے خطے کو جنگ سے نکالنے کے لیے انتہائی بڑے اور غیر معمولی فیصلے کیے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت اور پٹرولیم مارکیٹ پر فوری طور پر مرتب ہوں گے، معاہدے پر دستخط کے بعد اگلے 30 دنوں کے اندر امریکہ ایران کے خلاف اپنی تمام بحری ناکہ بندی کو مکمل اور قانونی طور پر ختم کر دے گا، عالمی تیل کی سپلائی کے لیے سب سے اہم اور حساس ترین بحری راستہ یعنی آبنائے ہرمز رواں ہفتے جمعہ کے روز سے تمام بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کا بحران ختم ہو جائے گا۔
بتایا جارہا ہے کہ مالیاتی اور اقتصادی ریلیف کے حوالے سے مسودے میں دنیا بھر کے بینکوں میں پڑے ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز میں سے نصف رقم یعنی 12 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کرنے کی تجویز ہے، جنگ اور پابندیوں سے متاثرہ ایرانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے 300 ارب ڈالر کے خطیر فنڈ سے مختلف ترقیاتی اور تعمیرِ نو کے منصوبوں پر باقاعدہ گفتگو کا آغاز کیا جائے گا، جس میں عالمی سرمایہ کار حصہ لیں گے۔
معلوم ہوا ہے کہ معاہدے کی مرکزی شق کے تحت ایران پر عائد تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر لگی تمام سخت پابندیوں میں فوری طور پر واضح نرمی کر دی جائے گی، اس پورے امن معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کی مانیٹرنگ اور اس کے بدلے پابندیوں میں نرمی کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی جب کہ ایران کا میزائل پروگرام اور خطے میں موجود اس کے حامی گروپس کا معاملہ فی الحال اس معاہدے اور مذاکرات کے ایجنڈے سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے، یعنی ان پر کوئی نئی پابندی یا بحث نہیں ہوگی، لبنان سمیت تمام جنگی محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا سخت مطالبہ اس مسودے کا لازمی حصہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں