لاہور : جنوبی ایشیا کے ممالک بالخصوص پاکستان میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو ایک عام اور نسبتاً معتدل دن سمجھا جاتا ہے، لیکن یہی درجہ حرارت جب یورپ کا رخ کرتا ہے تو محض 4 سے 5 دنوں کے اندر ایک ہزار سے زائد قیمتی جانیں نگل جاتا ہے، یہ حیرت انگیز فرق عام انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ آخر ایک ہی درجہ حرارت الگ الگ خطوں کے لوگوں پر اتنے مختلف اثرات کیوں مرتب کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے عوام سالہا سال شدید گرمی کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے جسم کا مدافعتی اور درجہ حرارت کنٹرول کرنے کا نظام زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے، اس کے برعکس یورپی ممالک تاریخی طور پر ٹھنڈے موسم کے عادی رہے ہیں، وہاں کے شہریوں کے جسمانی نظام اچانک 35 ڈگری یا اس سے زیادہ گرمی کو برداشت نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے ان کے جسم پر شدید حیاتیاتی دباؤ پڑتا ہے جو ہیٹ اسٹروک اور ہارٹ اٹیک کا باعث بنتا ہے۔
مزید یہ کہ یورپ میں انفراسٹرکچر اور زیادہ تر عمارتیں شدید سردی سے بچنے کے لیے بنائی گئی ہیں، ان کا ڈیزائن ایسا ہوتا ہے کہ سورج کی حرارت اندر ہی محفوظ رہے تاکہ سردیوں میں ہیٹر کم چلانا پڑے، لیکن جب ہیٹ ویو آتی ہے تو یہی خصوصیت موت کا جال بن جاتی ہے اور گھروں کے اندر کا درجہ حرارت باہر سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے، اس کے مقابلے میں پاکستان اور جنوبی ایشیا میں عمارتوں کا ڈیزائن اونچی چھتوں، کھڑکیوں اور بہتر ہواداری کے اصولوں پر بنایا جاتا ہے، گرمی سے نمٹنے کے روایتی طریقے بھی موجود ہوتے ہیں جو حبس اور تپش کو کم کرتے ہیں۔
قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ جنوبی ایشیا میں 35 ڈگری ایک عام بات ہے، اس لیے یہاں کا لائف اسٹائل، صحت کا نظام اور پبلک ٹرانسپورٹ گرمی کے مطابق ڈھلے ہوتے ہیں، لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ تپش میں کیا کھانا ہے، کب باہر نکلنا ہے اور کیسے بچنا ہے، یورپ میں یہ درجہ حرارت غیر معمولی ہوتا ہے، وہاں کی بیشتر ٹرینوں، گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشننگ کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اچانک آنے والی ہیٹ ویو تباہی مچا دیتی ہے۔
پاکستان میں نارمل سمجھا جانے والا 35 ڈگری درجہ حرارت یورپ کیلئے جان لیوا بن گیا




