واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں سے جاری ایران امریکہ تنازعہ اور ایرانی میزائل و ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، 7 جولائی سے اب تک متاثر ہونے والے 96 فیصد زخمی فوجی علاج کے بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹیوں پر واپس آ چکے ہیں، شمالی عراق اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی جوابی کارروائیوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا شدید خطرہ موجود ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 7 جولائی سے اب تک جاری تازہ لڑائی اور ایرانی جوابی حملوں میں تقریباً 100 امریکی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں، تاہم ان میں سے 96 فیصد فوجی صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنے فرائض سنبھال چکے ہیں، یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے جمعہ کے روز ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے 2 مزید فوجیوں کی باقاعدہ شناخت ظاہر کی۔
امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اردن اور شمالی عراق میں واقع امریکی تنصیبات پر ایرانی حملوں کے بعد حالات انتہائی تشویشناک ہیں، امریکی فوج اردن میں ایرانی حملے کے مقام سے ملنے والے کچھ ناقابلِ شناخت جسمانی اعضاء کا ڈی این اے اور سائنسی معائنہ کر رہی ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ روز امریکی فوج نے تصدیق کی کہ 18 جولائی کو شمالی عراق میں کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا، اس سے قبل ہفتے کو اردن میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں 2 امریکی فوجی ہلاک، 4 زخمی اور 1 اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا، امریکہ اس سے قبل ایرانی جوابی کارروائیوں میں 3 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر چکا ہے، جبکہ ایک اہلکار تاحال لاپتہ ہے۔
پینٹاگون کے سابقہ اعداد و شمار اور ملٹری ریکارڈ رکھنے والے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم سے معلوم ہوا ہے کہ 28 فروری سے اب تک اس تمام تنازع کے دوران مجموعی طور پر 14 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 427 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، تنازع کے آغاز سے 413 فوجی باقاعدہ ڈیوٹی کے دوران زخمی ہوئے، تاہم اس ریکارڈ میں جاری موجودہ ماہ جولائی کے تازہ زخمی شامل نہیں ہیں۔
ایران کے جوابی حملوں سے امریکی افواج کا بڑا جانی نقصان؛ 100 فوجی زخمی، 14 ہلاک




