تحریک انصاف لانگ مارچ؛ مریم نواز حکومت نے فوج اور رینجرز کی مدد مانگ لی

لاہور : پاکستان تحریکِ انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ اور احتجاجی فرنٹ کے پیشِ نظر سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کی تیاری شروع کر دی گئی ہے، جس کے تحت پنجاب حکومت نے پاک فوج اور رینجرز جبکہ اسلام آباد پولیس نے دیگر صوبوں سے ہزاروں اہلکاروں کی نفاذِ قانون کے لیے تعیناتی کی درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت کے محکمۂ داخلہ نے امن و امان کی صورتِ حال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے وفاقی حکومت کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صوبائی حکومت کے خط میں خصوصی طور پر راولپنڈی کے حسّاس اضلاع میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کے دستوں کو بھی تعینات کرنے کی استدعا کی گئی ہے اور یہ تمام نفاذی اور سکیورٹی دستے 5 اکتوبر تک طلب کیے گئے ہیں، یہ اہم فیصلہ پنجاب کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں زیرِ غور آنے کے بعد منظور کیا گیا۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے متوقع لانگ مارچ کے دوران شہر کی ناکہ بندی اور ریڈ زون کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب اور سندھ پولیس سے 18 ہزار اضافی نفاذِ قانون کے اہلکار مانگ لیے ہیں، پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ پنجاب سے 16 ہزار اور سندھ پولیس سے 2 ہزار اہلکاروں کے ساتھ ساتھ 3 ڈی آئی جیز، 7 ایس ایس پیز اور 18 ایس پیز کی خدمات بھی طلب کی گئی ہیں تاکہ احتجاج کے دوران سکیورٹی انتظامات اور لا اینڈ آرڈر کی صورتِ حال کو قابو میں رکھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں