کراچی: پاکستان نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب تک کا مہنگا ترین ایل این جی (مائع قدرتی گیس) اسپاٹ کارگو خرید لیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے جولائی 2027-28 کی سپلائی کے لیے ایل این جی کارگو 21.88 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بلند ترین قیمت پر خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع نے کہاکہ پی ایل ایل کے بورڈ نے اسپاٹ کارگو کی خریداری کی منظوری دے دی ہے، جبکہ ٹینڈر کے جواب میں صرف ایک کمپنی ٹوٹل انرجیز گیس اینڈ پاور کی جانب سے 21.88 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی واحد بولی موصول ہوئی، جسے قبول کر لیا گیا۔پیٹرولیم ذرائع کے مطابق یہ جولائی کی سپلائی کے لیے خریدا جانے والا پانچواں ایل این جی کارگو ہے اور اس کی قیمت پاکستان کی جانب سے اسپاٹ مارکیٹ سے خریدے گئے تمام سابقہ کارگوز سے زیادہ ہے، جس کے باعث اسے اب تک کا مہنگا ترین ایل این جی کارگو قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اس سے قبل جولائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے چار دیگر ایل این جی کارگوز بھی خرید چکا ہے، جن کی قیمتیں بتدریج بڑھتی رہی ہیں۔ 30 جون سے 4 جولائی کے درمیان سپلائی ہونے والا کارگو 16.73 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں خریدا گیا، 10 سے 11 جولائی کے کارگو کی قیمت 17.37 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رہی، 15 سے 16 جولائی کی سپلائی کے لیے 18.23 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ادا کیے گئے، جبکہ اس سے قبل خریدا گیا چوتھا کارگو 20.69 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں حاصل کیا گیا تھا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور محدود دستیابی کے باعث پاکستان کو زیادہ نرخوں پر خریداری کرنا پڑ رہی ہے، جس کے ملکی توانائی لاگت اور درآمدی بل پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بروقت خریداری ناگزیر تھی۔
پاکستان نے تاریخ کا مہنگا ترین ایل این جی اسپاٹ کارگو خرید لیا




