واشنگٹن : پاکستان نے اپنی معیشت کو سہارا دینے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کے معاشی پیکج ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی کی باضابطہ درخواست کر دی۔ عالمی خبر رساں اداے رائٹرز کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کے دوران اس معاشی تعاون اور عالمی کیپٹل مارکیٹ تک پاکستان کی رسائی کا معاملہ اٹھایا، پاکستان نے امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو پیش کی جانے والی درخواست میں دونوں حکومتوں کے درمیان 5 سال کی مدت کے لیے 10 ارب ڈالر کے باہمی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی معاہدے کی تجاویز دی ہیں، اس فنڈ کا مقصد پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنا، روپے پر دباؤ کم کرنا اور آئی ایم ایف کے سخت پروگراموں پر عدم انحصار یقینی بنانا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ امریکی وزارت خزانے کی جانب سے دیا جانے والا ایک انتہائی نایاب فنڈ ہے جو مختلف ممالک کو ڈالرز، سوپ لائنز یا ضمانتوں کی صورت میں ملکی معیشت اور زرمبادلہ مستحکم کرنے کے لیے فراہم کیا جاتا ہے، اس سے قبل امریکی حکومت نے ارجنٹائن کو 2025ء، یوراگوئے کو 2002ء اور میکسیکو کو یہ سہولت فراہم کی ہے، اگر یہ فنڈ منظور ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ناصرف مالیاتی سہارا ہوگا بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اور اعتماد کو بحال کرے گا۔
بتایا جارہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اصلاحات، ٹیکسوں میں اضافے اور اخراجات پر پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے، ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر چین، سعودی عرب اور دیگر اتحادیوں کے رول اوورز پر منحصر ہیں، اپریل میں پاکستان نے یو اے ای کو 3.5 ارب ڈالر واپس کیے جس کے بعد سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کا نیا سہارا دیا، اسٹیٹ بینک کا ہدف ہے کہ 2026ء کے اختتام تک ملکی ذخائر کو 20 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر واپس لایا جائے، جس کیلئے امریکی فنڈ ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی درخواست؛ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالرز کی مالی سہولت مانگ لی




