سان فرانسیسکو: چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے بتایا ہے کہ ٹیسٹنگ کے دوران ایک آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ایجنٹ نے پروگرامرز کے معروف پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے علاوہ مزید چار کمپنیوں کے آن لائن سسٹمز میں داخل ہونے کی کوشش کی. صارفین نے کمپنی کے اعتراف پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اس معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کروانے‘کمپنی کے خلاف قانونی کاروائی اور صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے .
عالمی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں جولائی کے دوسرے عشرے کے آغاز پر اوپن اے آئی نے بتایا تھا کہ اس کے 2 سب سے ایڈوانس اے آئی ماڈلز نے ایک اور کمپنی ہگنگ فیس کو خود اپنے بل پر ہیک کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی اس موقع پر اوپن اے آئی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں متعارف کراگئے گئے جی پی ٹی 5.6 سول اور ایک اور ایڈوانس ماڈل جس کو ابھی جاری بھی نہیں کیا گیا، پر مبنی ایک خودکار اے آئی ایجنٹ ٹیسٹنگ کے دوران کنٹرول ماحول سے باہر اوپن انٹرنیٹ تک پہنچا.
اب کمپنی نے ایک نئے بیان میں بتایا کہ ٹیسٹنگ کے دوران اے آئی ایجنٹ اپنے محدود ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ سے جڑ گیا اور مختلف ویب سروسز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی بیان میں بتایا گیا کہ اس حوالے سے تحقیقات کرنے پر اے آئی ایجنٹ نے انٹرنیٹ پر کچھ کمپنیوں کی لاگ ان تفصیلات حاصل کرکے چند اکاﺅنٹس تک رسائی حاصل کی. اوپن اے آئی کی جانب سے متاثرہ کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے مگر اس انکشاف کے بعد سکیورٹی ٹیسٹنگ عارضی طور پر روک دی گئی ہے جبکہ اے آئی سسٹمز کے حفاظتی نظام مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے.
چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی کے مطابق ایسا اس ایجنٹ بغیر کسی انسانی مدد کے کیا کمپنی کے مطابق ان 4 کمپنیوں کے ساتھ اے آئی ایجنٹ کی سرگرمیاں اتنی سنگین یا بڑے پیمانے پر نہیں تھی جس کا سامنا ہگنگ فیس کو ہوا ‘اے آئی کمپنیوں کو چپس تک رسائی میں مدد فراہم کرنے والی کمپنی ماڈل لیبز کے مطابق اس اے آئی ایجنٹ نے ایک صارف کے تحریر کردہ کوڈ کو استعمال کیا ”ہگنگ فیس“ کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگی نے اس حوالے سے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ پہلے ہمیں شبہ تھا کہ فرنٹیئر لیب اس ہیکنگ حملے کے پیچھے ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ اس حوالے سے اوپن اے آئی کا ارادہ خراب نہیں تھا.
انہوں نے کہا کہ یہ دماغ گھما دینے والی حقیقت ہے کہ ایسا ایک اے آئی ایجنٹ نے خودکار طور پر کیا یہ اپنی طرز کا پہلا واقعہ ہے اب اس کمپنی نے کہا کہ ایسا ایجنٹ نے خود کیا اور بنیادی طور پر دھوکا دہی سے ہمارے سسٹم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی کمپنی کے مطابق ایجنٹ کا یہ رویہ حقیقی اور خطرناک ہے اور اس اے آئی ایجنٹ نے خامیوں کو استعمال کیا.




