واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ کے حوالے سے اپنے مشیروں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے پریشان ہیں بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایرانیوں کو کسی معاہدے پر راضی کرنا اتنا مشکل ہو گا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی ایران امریکا جنگ کی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر ان کے مشیروں کے درمیان اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو رہا.
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نہیں چاہتے تھے کہ ایران جنگ اتنے طویل عرصے تک چلے رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے اسٹریٹجک شکست کا سامنا ہے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر قومی سلامتی کی میٹنگ کے دوران بھڑک اٹھے تھے اور انہوں نے اپنے مشیروں پر طنز بھی کیا.
دوسری جانب وائٹ ہاﺅس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جھوٹ ہے، امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایک بہترین ٹیم ہے جس پر وہ بھروسہ کرتے ہیں اور ٹیم میں شامل ہر شخص جانتا ہے کہ وہ حتمی فیصلہ کرنے والے ہیں. ادھر ”وال اسٹریٹ جرنل“نے باخبرذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف اپنے فوجی آپریشنز کو ایک شدید فضائی مہم کے ذریعے وسعت دینے کے آپشن پر غور کر رہی ہے جو 10 دن سے دو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں.
بتایا گیا ہے کہ امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک وسیع فضائی مہم کا منصوبہ تیار کیا ہے اس کا مقصد پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ محدود ضربیں ایرانی حملوں کو روکنے یا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو درپیش دھمکیوں سے تہران کو باز رکھنے میں ناکام رہے ہیں.
کوپر نے ایک تیز تر آپشن پیش کیا جس کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیتوں کو اتنی بڑی حد تک کم کرنا ہے کہ مزید امریکی میزائل شکن ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت کم سے کم ہو جائے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا وہ دو متوازی راستوں پر غور کر رہے ہیں جن میں پہلا 10 سے 14 دن کی فضائی مہم کا آغاز اور دوسرا ایک محدود عسکری ردِ عمل جو سفارتی راستے کو برقرار رکھے امریکی صدر نے گذشتہ ہفتے وزیردفاع پیٹ ہیگسیٹھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین، اور سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کے ساتھ ملاقات میں ان آپشنز پر تبادلہ خیال کیا.
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انتظامیہ کے اندر اصل اختلاف آپریشن کے حجم اور اس کی عسکری لاگت پر ہے کوپر ان حملوں کو وسعت دینے کے حق میں ہیں تاکہ ایرانی میزائل انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا جا سکے جبکہ جنرل ڈین کین زیادہ محتاط موقف رکھتے ہیں کین کا خبردار کرنا ہے کہ ایک بڑی مہم امریکہ کے میزائل شکن ذخائر کو خالی کر سکتی ہے، جن کی ضرورت دنیا کے دیگر علاقوں میں اپنے اڈوں اور اتحاد یوں کے تحفظ کے لیے بھی ہے.
دوسری طرف پینٹاگان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ دفاعی قیادت صدر کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے یکسو ہے” فوکس نیوز “کے مطابق ٹرمپ کو ایران کے خلاف سکیورٹی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے سے متعلق مختلف تجاویز پیش کی جا چکی ہیں اس سے قبل سینٹ کام نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں کمانڈ سینٹرز، میزائل و ڈرون سائٹس اور ساحلی دفاعی تنصیبات شامل ہیں امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے امریکی افواج پر کیے گئے بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی، جنہیں کامیابی سے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا تھا.




