اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی باضابطہ دعوت دے دی۔ تفصیلات کے مطباق کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہمیشہ پارلیمانی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے اپوزیشن کے ساتھ بامقصد گفتگو کی حمایت کی ہے، میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ بامقصد بات چیت کے لیے ہم مکمل طور پر تیار ہیں، اور میں آج پھر دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور ہم سے بات کریں، امید ہے آئندہ دنوں میں صورتحال بہتر ہوگی، اپوزیشن بات چیت کرے تاکہ جمہوریت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے سیاسی تعطل اور مذاکرات کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کب مذاکرات کی میز پر آتی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کتنی جلدی اور کس قدر سنجیدگی کے ساتھ بامقصد بات چیت کے لیے آگے بڑھتی ہے، حکومت کی تمام تر توجہ اور کوششیں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل اور اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم آفس نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء کے تیار کردہ مسودے کی منظوری دی، یہ قانون سازی حال ہی میں منظور کی جانے والی 27ویں آئینی ترمیم کے تسلسل اور اس کے متقاضی احکامات کی روشنی میں کی گئی۔ اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ اس نئے ایکٹ کا بنیادی مقصد ملک میں ‘چیف آف ڈیفنس فورسز’ کے نئے قائم کردہ عہدے اور ‘چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز’ کے قیام اور اس سے متعلقہ تمام انتظامی، آپریشنل اور قانونی امور کا حتمی تعیّن کرنا ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد اس اہم ترمیمی مسودے کو حتمی منظوری کے لیے پارلیمان کے جاری اجلاس میں فوری پیش کیا جائے گا۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیہ سے مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ضروری ترامیم کے مسودے کی بھی منظوری دے دی ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد اس قانون میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے یہ تدبیر انتہائی ضروری تھی، اور اس ترمیمی مسودے کو بھی قانون سازی کے لیے پارلیمان کے سامنے رکھا جائے گا۔
وزیراعظم نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیدی




