وفاقی کابینہ نے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی

اسلام آباد : وفاقی کابینہ نے دہشت گردی کے خلاف ’آپریشن عزم استحکام‘ کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس کے دوران نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی، پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا 11 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ اجلاس میں عالمی ادارہ خوراک کی سپیئر پارٹس کی شپمنٹ افغانستان بھجوانے کے لیے این او سی کی منظوری سمیت پیر روشن انسٹیٹیوٹ آف پروگریسو سائنسز اینڈ ٹیکنالوجیز کے پہلے ریکٹر کے تقرر کی منظوری دی جائے گی۔
اعلامیہ سے معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں اسلام آباد میں ورچوئل یونیورسٹی کی پرنسپل سیٹ کے قیام کے لیے اراضی کے حصول کی اجازت دی جائے گی، متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کا تقرر ایجنڈے کا حصہ ہے، وزارت مذہبی امور اور سعودی وزارت اسلامی امور کے درمیان ایم او یو پر دستخط کی منظوری دی جائے گی، بہاولپور کے مرحوم امیر کی جائیداد سے متعلق عمل درآمد کمیٹی کی تشکیل بھی ایجنڈے کا حصہ ہے، اس کے علاوہ فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے تقرر کی منظوری ایجنڈے کا حصہ ہے۔
ادھر وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان مین کہا گیا ہے کہ پائیدار امن و استحکام کیلئے حال ہی میں اعلان کردہ ویژن کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، آپریشن عزم استحکام کو غلط سمجھا جا رہا ہے، عزم استحکام کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات وغیرہ سے کیا جا رہا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز نوگو ایریاز اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے علاقوں میں کیا گیا، اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں۔
وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ ملک میں کسی ایسے فوجی آپریشن پر غور نہیں کیا جا رہا جہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہوگی، عزم استحکام کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کے جاری نفاذ میں ایک نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے، عزم استحکام پاکستان میں پائیدار امن و استحکام کیلئے ایک کثیر جہتی، مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی ویژن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں