واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور سابق وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کے بند کمرے کے بیانات (ڈپوزیشنز) کی ویڈیوز جاری کر دی ہیں رپورٹ کے مطابق دونوں میاں بیوی گزشتہ ہفتے کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، جہاں ان سے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوالات کیے گئے.
بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری تحقیقات میں ایک نیا موڑ تب سامنے آیا جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک موقع پر مجھ سے کہا تھا کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ کچھ بہترین وقت گزارا ہے. ہلیری کلنٹن نے کمیٹی کو بتایا کہ میں جیفری ایپسٹین کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھی، جبکہ بل کلنٹن نے کہا کہ میں نے 2008 میں ایپسٹین کے خلاف جنسی جرائم سامنے آنے سے پہلے ہی اس سے تعلقات ختم کر لیے تھے بل کلنٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا جبکہ ہلیری کلنٹن نے مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کو بھی حلف کے تحت طلب کیا جائے.
ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سے براہِ راست ان ہزاروں حوالوں کے بارے میں پوچھا جانا چاہیے جو ایپسٹین فائلز میں ان کے نام سے متعلق سامنے آئے ہیں واضح رہے کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں کسی کا نام آنا جرم ثابت نہیں کرتا اور بل کلنٹن کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی تاحال باضابطہ طور پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے.
بل کلنٹن اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کی ایپسٹین کے ساتھ متعدد ملاقاتیں رہی ہیں اور وہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں کلنٹن فاﺅنڈیشن کے انسانی ہمدردی کے کاموں کے سلسلے میں ایپسٹین کے نجی طیارے میں کئی بار سفر بھی کر چکے ہیں تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ ایپسٹین کے بدنام زمانہ نجی کیریبیئن جزیرے پر گئے، جہاں مبینہ طور پر کم عمر لڑکیوں کو بااثر شخصیات کے لیے اسمگل کیا جاتا تھا.
جیفری ایپسٹین کو 2008 میں کم عمر لڑکیوں سے جنسی تعلق قائم کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں اپنی موت سے قبل جنسی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے، ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تاہم اس حوالے سے مختلف سازشی نظریات بھی گردش میں رہے ہیں. ابتدائی طور پر کلنٹن خاندان نے سمن کی مخالفت کی تھی لیکن بعد ازاں ایوان نمائندگان میں ریپبلکن ارکان کی جانب سے توہین کانگریس کی کارروائی کی دھمکی کے بعد انہوں نے بیان ریکارڈ کرانے پر آمادگی ظاہر کی ڈیمو کریٹس کا موقف ہے کہ یہ تحقیقات دراصل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں اور انہیں صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے ہتھیار بنایا جا رہا ہے.




