واشنگٹن : امریکہ کے ایک وفاقی جج نے غیرملکی ماہرین کو جاری کیے جانے والے معروف ایچ ون بی ویزہ کی فیس میں بے پناہ اضافے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو یکسر رد کر دیا جب کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس عدالتی فیصلے پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جوڈیشل ایکٹیوازم قرار دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکہ کے وفاقی ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکین نے اعلیٰ سطح کے غیر ملکی ملازمین اور ماہرین کے لیے جاری کیے جانے والے ایچ ون بی ویزہ سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازعہ پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا ہے، صدر ٹرمپ نے اس ویزہ کی درخواست پر ایک لاکھ ڈالر فیس جمع کرانے کی بھاری شرط عائد کی تھی، جسے عدالت نے اختیارات سے تجاوز قرار دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف امریکی ریاستوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا، کیلی فورنیا سمیت امریکہ کی 20 ریاستوں نے ستمبر میں اعلان کردہ صدر ٹرمپ کے اس مہنگے ترین ویزہ اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا، جس پر وفاقی جج لیو سوروکین نے اپنے 42 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں تحریر کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس حساس معاملے پر امریکی پارلیمنٹ یعنی کانگریس سے منظوری لیے بغیر قدم اٹھایا۔
جج نے فیصلے میں واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ براہِ راست صدارتی اختیارات سے تجاوز ہے، ایک لاکھ ڈالر کی اس رقم کو خواہ کوئی بھی نام دیا جائے، حقیقت میں یہ ایک ٹیکس ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ کے پاس یہ آئینی اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ ایچ ون بی ویزہ کی درخواستوں پر اپنی مرضی سے ایک لاکھ ڈالر کا ٹیکس نافذ کردے۔
خیال رہے کہ ایچ ون بی ویزہ پروگرام امریکی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ایچ ون بی ویزہ پروگرام کا آغاز امریکی کانگریس نے 1990ء میں کیا تھا، اس پروگرام کے تحت امریکہ میں کام کرنے والی کمپنیاں اور ادارے مختلف شعبوں کے غیر ملکی ماہرین جیسے آئی ٹی، سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے سے وابسہ افراد کو امریکہ میں عارضی ملازمتیں فراہم کرتے ہیں، اس ویزہ کے تحت امریکہ میں عارضی ملازمت کی کل مدت 6 سال تک ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی ایچ ون بی ویزہ پالیسی غیرقانونی قرار




