اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال پمز کے چلڈرن وارڈ کی نرسری اور این آئی سی یو میں خوفناک آتشزدگی کے باعث جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا، جس پر پورے ملک کی فضائیں سوگوار ہیں۔ چار سال کی منتوں مرادوں کے بعد بیٹی پانے والے راولپنڈی شمس آباد کے ایک متاثرہ والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہزاروں انکوائریاں ہو جائیں یا سزائیں مل جائیں، ہمارے آنگن کا پھول اب کبھی نہیں کھل سکے گا‘ انہوں نے پمز ہسپتال کی ابتر صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اتنی بڑی آبادی کے لیے ہسپتال انتہائی چھوٹا ہے اور علاج و سہولیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں‘۔
ایک اور بچے کی غم سے نڈھال والدہ کا کہنا تھا کہ ’چار سال بعد گھر میں خوشی آئی تھی جو چند لمحوں میں منو مٹی تلے چلی گئی‘، بیشتر والدین نے شکوہ کرنے کے بجائے صبر اور اللہ کی رضا پر سر تسلیمِ خم کر دیا جب کہ عالمی برادری اور برادر ممالک نے اس سانحے پر اظہارِ تعزیت کیا ہے، عالمی سطح پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے، اقوام متحدہ نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے اس نقصان کو ناقابلِ تصور قرار دیا۔
بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر حکومتِ پاکستان کو طبی میدان میں ہر ممکن معاونت کی پیشکش کی گئی ہے، سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں متاثرہ خاندانوں، حکومتِ پاکستان اور عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا، اسی طرح ایرانی حکومت نے بھی واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غم زدہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کی ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثہ این آئی سی یو میں موجود انکوبیٹر کے ساتھ لگے آکسیجن نیبولائزر کے یکدم پھٹنے کے باعث پیش آیا، جس کے بعد آکسیجن کی موجودگی کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا، آگ لگنے سے شدید دھواں پیدا ہوا جو ایئر پائپ لائنز کے ذریعے نرسری میں موجود بچوں کے سانس میں منتقل ہوا، جس سے بچوں کی اموات آکسیجن کی فراہمی منقطع ہونے اور شدید جھلسنے کے باعث ہوئیں۔
سانحہ پمز میں جاں بحق 14 معصوم نومولود آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک




