راولپنڈی: راولپنڈی میں اپنی اہلیہ حنا جاوید کو بے دردی سے قتل کرنے والے مرکزی ملزم فیصل اصغر کے بارے میں ایک انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد اس کی مجرمانہ اور بیمار ذہنیت کا پول کھل گیا۔ تفصیلات کے مطابق ملزم فیصل اصغر مختلف نامور یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں کارپوریٹ کمیونیکیشن کا مضمون پڑھاتا تھا، سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر ملزم کے کلاس روم لیکچرز کی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں، جن میں وہ طالبات سے دورانِ تدریس ایسے سوالات پوچھتا دکھائی دیتا ہے جو اس کی منفی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فیصل اصغر ایک طالبہ سے سوال کرتا ہے کہ ’اگر شوہر اپنی بیوی کو گولی مار دے تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟‘ جس پر طالبہ جواب دیتی ہے کہ ’ایسا شوہر بہت برا آدمی ہو گا‘، اس جواب پر ملزم فیصل اصغر دوبارہ سوال کرتا ہے کہ ’اگر بیوی کا کسی اور کے ساتھ افیئر ہو اور وہ دولت حاصل کرنے کے لیے اپنے شوہر کو مارنا چاہتی ہو تو؟‘ اس پر طالبہ جواب دیتی ہے کہ ’ایسا ہونا ضروری تو نہیں کہ بیوی واقعی شوہر کو قتل کرنا چاہتی ہو‘۔
حنا جاوید قتل کیس میں نیا اور حیران کُن انکشاف، مرکزی ملزم فیصل اصغر مختلف یونیورسٹیوں میں کارپوریٹ کمیونیکیشن پڑھاتا رہا، لیکچرز کے دوران شوہروں کے ہاتھوں بیویوں کے قتل کی مثالیں دیتا رہا، یوٹیوب چینل سے لیکچرز کی مختلف ویڈیوز سامنے آگئیں، ویڈیو میں فیصل اصغر ایک طالبہ سے سوال… pic.twitter.com/2WNwgamOu2
— Khurram Iqbal (@khurram143) August 24, 2026
بتایا گیا ہے کہ ملزم فیصل اصغر یونیورسٹی میں بھی لیکچرز دیتے ہوئے مسلسل طلباء سے خواتین کے قتل، گھریلو تشدد اور شوہر و بیوی کے تنازعات سے متعلق غیر اخلاقی اور متنازعہ سوالات پوچھا کرتا تھا، حنا جاوید کے بہیمانہ قتل کے بعد ان ویڈیوز کے سامنے آنے پر سوال اٹھتا ہے کہ کیسے اتنے سالوں سے یونیورسٹیوں میں اس کی اس خطرناک اور بیمار ذہنیت کا کسی نے نوٹس ہی نہیں لیا؟۔




