یمن، حوثی تحریک اور امن کا راستہ

از: ڈاکٹر اشرف چوہان
چیف ایڈیٹر، ڈیلی ریپڈ نیوز لاہور

یمن کا مسئلہ مسلم دنیا کے سب سے پیچیدہ، دردناک اور طویل تنازعات میں سے ایک ہے۔ اسے صرف سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ، ایران اور خلیجی ممالک کی کشمکش، یا حکومت اور باغیوں کی لڑائی سمجھنا درست نہیں۔ یمن کی اصل حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اس مسئلے کو انصاف کے ساتھ سمجھنے کے لیے تین باتوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے: حوثی تحریک کیوں پیدا ہوئی، ان کے مطالبات میں کتنی حقیقت ہے، اور کیا ان کا بعد کا عسکری طرزِ عمل جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟

حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، شمالی یمن کے زیدی شیعہ علاقوں، خاص طور پر صعدہ سے ابھری۔ ابتدا میں ان کی شکایات سیاسی محرومی، معاشی پسماندگی، بدعنوانی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ریاستی نظام سے دوری کے گرد گھومتی تھیں۔ یمن پہلے ہی ایک کمزور ریاست تھا جہاں غربت، قبائلی تقسیم، کمزور ادارے اور علاقائی محرومیاں موجود تھیں۔ ایسے ماحول میں حوثیوں نے اپنے آپ کو ایک مزاحمتی اور محروم طبقے کی آواز کے طور پر پیش کیا۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ حوثیوں کی تمام شکایات بے بنیاد تھیں۔ یمن میں غربت، بدعنوانی، سیاسی اخراج، بیرونی اثر و رسوخ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، تیل و گیس کی آمدنی اور تعمیرِ نو جیسے مسائل حقیقی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے امن عمل میں بھی جنگ بندی، سرکاری تنخواہوں، بندرگاہوں، صنعا ایئرپورٹ، سڑکوں، تیل کی آمدنی اور قومی سیاسی تصفیے جیسے معاملات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم اصول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: جائز شکایت کسی گروہ کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ بندوق کے زور پر ریاست پر قبضہ کرے۔ حوثیوں نے 2014 میں صنعا پر قبضہ کیا اور پھر اپنی عسکری طاقت کو بڑھاتے ہوئے ریاستی اداروں، فوجی سازوسامان اور وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا۔ اسی بنیاد پر یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور سعودی عرب کا مؤقف یہ ہے کہ ریاست کو ایک مسلح گروہ کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب کی تشویش بھی مکمل طور پر بے بنیاد نہیں۔ اس کی جنوبی سرحد کے ساتھ ایک ایران نواز مسلح تحریک کا مضبوط ہونا، میزائلوں اور ڈرون حملوں کی صلاحیت رکھنا، اور سعودی شہروں، توانائی تنصیبات اور سرحدی علاقوں کو نشانہ بنانا سعودی قومی سلامتی کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ دوسری طرف حوثیوں کا مؤقف ہے کہ سعودی قیادت میں 2015 کی فوجی مداخلت نے یمن کے اندرونی سیاسی تنازع کو ایک تباہ کن علاقائی جنگ میں تبدیل کر دیا۔

یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں درست ہو سکتی ہیں۔ سعودی عرب کی سلامتی کا مسئلہ بھی حقیقی ہے، اور یمن میں بیرونی فوجی مداخلت سے پیدا ہونے والی انسانی تباہی بھی حقیقت ہے۔

حوثیوں کی طاقت کا راز صرف ایران کی حمایت نہیں، بلکہ یمن کے اندرونی حالات بھی ہیں۔ انہیں شمالی قبائل، مذہبی شناخت، علاقائی محرومی، کمزور ریاستی ڈھانچے اور منظم عسکری قیادت سے قوت ملی۔ ایران کی سیاسی، عسکری اور تکنیکی حمایت نے ان کی صلاحیتوں کو مزید بڑھایا، خاص طور پر میزائل، ڈرون اور بحیرہ احمر میں سمندری راستوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے۔ اسی وجہ سے حوثی ایک مقامی یمنی تحریک سے بڑھ کر ایک علاقائی سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔

اگر ان کی کامیابی کا جائزہ لیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حوثی توقع سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے برسوں کی سعودی قیادت میں فوجی کارروائیوں کے باوجود صنعا اور شمالی یمن پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا، اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو وسعت دی، بحیرہ احمر کی عالمی تجارت کو متاثر کیا، اور خود کو ہر امن مذاکرات کا لازمی فریق بنا دیا۔ اس لحاظ سے ان کی عسکری اور سیاسی بقا ایک بڑی کامیابی ہے۔

لیکن جنگ میں کامیابی حکومت کرنے کی اخلاقی یا قانونی اجازت نہیں بن جاتی۔ حوثیوں پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے، بچوں کی بھرتی، سیاسی مخالفین کو دبانے، امدادی کاموں میں مداخلت، اور تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے جیسے سنگین الزامات موجود ہیں۔ اس لیے ان کی شکایات کو تسلیم کرنا اور ان کے ہر اقدام کو جائز قرار دینا دو الگ باتیں ہیں۔

اسی طرح سعودی عرب اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت بھی ہر عمل کی مکمل بریت حاصل نہیں کر سکتے۔ جنگ نے یمن کے عوام کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچایا ہے۔ لاکھوں لوگ غربت، بیماری، بے گھری اور عدم تحفظ کا شکار ہوئے۔ ایک پورا ملک انسانی بحران میں تبدیل ہو گیا۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ حوثیوں کو مکمل طور پر فوجی طاقت سے ختم کرنے کی پالیسی عملی طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔

پاکستان کا کردار یہاں نہایت اہم لیکن محتاط ہونا چاہیے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی، دفاعی، معاشی اور عوامی تعلقات ہیں۔ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان ایران کے ساتھ بھی سرحد، تجارت، مذہبی اور سفارتی تعلقات رکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو کسی جنگ کا براہ راست فریق بننے کے بجائے ایک سنجیدہ ثالث، امن کے حامی اور مسلم دنیا کے ذمہ دار ملک کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے۔

پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے جائز خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے ایران، سعودی عرب، یمن کے مختلف فریقوں، او آئی سی اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ایک سفارتی راستہ نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ پاکستان کا بہترین کردار فوجی نہیں بلکہ سفارتی، انسانی اور سیاسی ہونا چاہیے۔ ہمیں یمن میں جنگ نہیں، امن، تعمیرِ نو، انسانی امداد اور مذاکرات کی حمایت کرنی چاہیے۔

یمن کا حل کسی ایک فریق کی مکمل فتح میں نہیں بلکہ ایک بڑے قومی سمجھوتے میں ہے۔ اس کے لیے ملک گیر جنگ بندی، سرحد پار میزائل اور ڈرون حملوں کا خاتمہ، سعودی سلامتی کی ضمانت، بیرونی فوجی مداخلت میں کمی، بندرگاہوں اور صنعا ایئرپورٹ کا کھلنا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا شفاف نظام، تیل و گیس کی آمدنی کی منصفانہ تقسیم، قیدیوں کی رہائی، بھاری ہتھیاروں پر پابندیاں، اور سب سے بڑھ کر ایک جامع یمنی سیاسی عمل ضروری ہے۔

یمن کا مستقبل سعودی عرب، ایران یا کسی مسلح گروہ نے نہیں بلکہ یمنی عوام نے طے کرنا ہے۔ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا قانونی مؤقف مضبوط ہے، لیکن حوثیوں کو زمینی حقیقت کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں امن عمل میں شامل کرنا ہوگا، مگر انہیں بندوق کے زور پر مستقل حکمرانی کا حق نہیں دیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ حوثیوں کی کچھ شکایات جائز ہیں، لیکن ان شکایات سے ریاست پر مسلح قبضے کا حق پیدا نہیں ہوتا۔ سعودی عرب کے سلامتی خدشات حقیقی ہیں، مگر صرف فوجی طاقت سے پائیدار امن ممکن نہیں۔ ایران کو یمن کو علاقائی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے، اور عرب دنیا کو بھی یمن کو صرف سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی، سیاسی اور معاشی بحران کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

یمن کی اصل کامیابی اس دن ہوگی جب وہاں میزائلوں کی گنتی نہیں بلکہ سکولوں، ہسپتالوں، بندرگاہوں، روزگار، امن اور قومی حکومت کی تعمیر شروع ہوگی۔ مسلم دنیا کو یمن میں ایک اور نسل کو جنگ کی نذر ہونے سے بچانا ہوگا۔

آج یمن کو فتح کرنے والے نہیں، یمن کو جوڑنے والے رہنما چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں