اسلام آباد : وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ کو مرحلہ وار ختم کرتے ہوئے اس کی جگہ نیٹ بلنگ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی طرف سے باضابطہ طور پر ورکنگ شروع کر دی گئی ہے اور صارفین کے لیے نئے نیٹ بلنگ نظام کی تفصیلات تیار کی جا رہی ہیں، اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین اضافی بجلی گرڈ میں شامل کر کے مقررہ نرخ پر ایڈجسٹمنٹ حاصل کرتے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ نیپرا نئے نظام کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے گا، جس کے بعد حتمی قواعد و ضوابط کا اعلان کیا جائے گا جس کے نتیجے میں یہ نظام نئے سولر صارفین پر لاگو ہونے کا امکان ہے ، اس سلسلے میں حکومت کا مؤقف ہے موجودہ نظام سے پاور سیکٹر پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، اسی وجہ سے نیٹ بلنگ فارمولہ لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے خاتمے سے گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر توانائی کے رجحان میں کمی آ سکتی ہے اور اس سے سولر انڈسٹری کو بھی دھچکہ لگنے کا خدشہ ہے، تاہم حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ نیٹ بلنگ سے بجلی کے نرخوں میں توازن اور قومی گرڈ پر بوجھ کم ہوگا، نیٹ بلنگ نظام کی حتمی منظوری کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس کے بعد اس پر عملدرآمد کا آغاز ہوگا۔
ادھر ملک بھر کے صارفین کے لئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی کا امکان ہے، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی دائر درخواست منظور ہونے کی صورت میں نومبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 72 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کی توقع ہے، درخواست پر نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) 31 دسمبر کو سماعت کرے گی، نیپرا کی جانب سے درخواست منظور ہونے کی صورت میں بجلی صارفین کو 72 پیسے فی یونٹ بجلی سستی ملے گی۔




