بلوچستان میں فورسز کے آپریشن جاری، 3 دن میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 177 ہوگئی

کوئٹہ :صوبہ بلوچستان میں فورسز کی طرف سے جاری آپریشن کے دوران 3 دن میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 177 ہوگئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الہندوستان کے تعاقب کا سلسلہ جاری ہے اور ان کارروائیوں میں تین دن میں 177 دہشت گرد مارے گئے اور سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملہ آور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اب بھی جاری ہیں جہاں گزشتہ رات پیچھا کرتے ہوئے مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، سکیورٹی فورسز بشمول انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس مختلف جگہوں پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف مزید گھیرا تنگ کر رہی ہیں، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مزید نقصانات اور ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے موٹرسائیکل کی ڈبل سواری سمیت کئی سخت پابندیاں عائد کردی گئیں، صوبائی محکمہ داخلہ کے جاری کردہ نوٹی فکیشن سے معلوم ہوا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت صوبے میں اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی عائد ہوگی، کالے شیشوں والی اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر بھی پابندی نافذ کی گئی ہے، اس کے علاوہ 5 یا 5 سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر بھی مکمل پابندی ہوگی، عوامی مقامات پر چہرے کو مفلر یا کسی اور چیز سے ڈھانپنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، ان پابندیوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تمام اضلاع کی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے قیام امن کے لیے حکومتی اقدامات پر بھر پور تعاون کی اپیل کردی گئی۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گرد بندوق کی نوک پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں، بشیر زیب، اللہ نذر اور دیگر جتنے بھی دہشت گرد ہیں وہ ہندوستان کے دلال ہیں، ہمارے پاس اِن حملوں کی انٹیلی جنس معلومات تھیں، ٹویٹر سردار جنگ کے دوران مصلحے پر بیٹھ کر بی ایل اے کے لیے دعائیں کر رہے تھے، دہشت گرد ہزار حملے کرلیں ان سے بات چیت نہیں ہوگی، ہم دہشت گردی کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کریں گے، ہم کیوں تھکیں؟ ہم ریاستِ پاکستان ہیں، ہم نہ پہلے تھکے ہیں اور نہ تھکیں گے، ایک ہزار سال تک بھی دہشت گردوں سے جنگ لڑیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں