لاہور: لاہور میں 25 سال بعد بسنت کی واپسی پر لاہوریے رات بھر جشن مناتے رہے، بسنت کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کا روایتی اور ثقافتی ورثہ ایک بار پھر زندہ ہو گیا۔ لاہور کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر گیا جبکہ فضا میں بو کاٹا کی صدائیں گونجتی رہیں۔ رواں صدی کے سب سے بڑے ثقافتی جشن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔
بسنت کے آغاز پر شہر بھر میں پتنگ بازوں کا جوش عروج پر نظر آیا۔ گھروں کی چھتیں آباد ہو گئیں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے پڑے اور گلیوں محلوں میں جشنِ بہاراں کا سماں بندھ گیا۔ نوجوانوں سمیت ہر عمر کے افراد پتنگ بازی اور خوشیوں میں مصروف دکھائی دیے۔ لبرٹی چوک بسنت کے رنگوں میں رنگ گیا جہاں روشنیوں اور رنگ برنگی جھنڈیوں نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔
شہر کے بازاروں اور اہم شاہراہوں کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور رات کے وقت پورا لاہور روشنیوں سے جگمگاتا رہا۔ رات بھر پتنگ بازی کے بعد شہری مختلف ناشتہ پوائنٹس پر پہنچ گئے۔ ناشتہ کرنے کے بعد نوجوان بڑی تعداد میں موچی گیٹ کا رخ کرتے رہے جہاں پتنگ بازی کے سامان کی خریداری جاری رہی۔ پتنگ اور ڈور مہنگی ہونے کے باوجود شہر بھر میں نایاب ہو چکی ہے، تاہم شوق میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔
25سال بعد بسنت کی واپسی، لاہوریوں کا رات بھر جشن، ہر طرف بو کاٹا کاشور




