پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں

اسلام آباد : بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں، نئی آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت نے آج تک پیپلزپارٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا، اگر حکومت نے ہمارے ساتھ کی گئی کمٹمنٹ پوری نہ کی تو ہم اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کے روز پاکستان پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں خاتون اول اوررکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے بعد چیئرمین بلاول نے قومی اسمبلی میں موجود صحافیوں سے گفتگو کی اور ان کے سوالات کے جوابات دئیے۔
سوالات کے جوابات دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے میری اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی بات ہوتی رہتی ہے، لیکن نئی آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت نے آج تک پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم میں پیپلز پارٹی کا کردار سب کے سامنے ہے۔ ہم نے صوبوں کے حقوق کم نہیں ہونے دیے، بلکہ مزید حقوق دیے۔ ہماری ترامیم سے بلوچستان کی سینیٹ میں نمائندگی بڑھی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کی عوام مہنگائی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ہم نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ان مسائل کو مسلسل اٹھایا ہے۔ جب وزیر اعظم نے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا تو ہم نے اس کا خیرمقدم کیا۔ مہنگائی کے خاتمے کے لیے سب کی مشاورت سے صوبوں کی سپورٹ کا فیصلہ کیا گیا، جس میں موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ریلیف دینے پر تمام صوبوں نے حمایت کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر مزدور کارڈ کے ذریعے لاکھوں کسانوں کی مدد کی ہے۔ قومی معاملات پر پیپلز پارٹی کا موقف واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ترمیم اور قومی مسئلے پر ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بھارت سے جنگ کے دوران ایک محب وطن کے طور پر میں نے بین الاقوامی میڈیا پر ملک کے دفاع کے لیے آواز اٹھائی۔ جنگ کے بعد وزیر اعظم نے مجھ سے امن کمیٹی کی قیادت کی درخواست کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں