اسلام آباد: حکومت کی جانب سے بجلی کے غریب صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے اور 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کی سبسڈی ختم کرنے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر وزارتِ توانائی کا اہم ترین وضاحتی بیان سامنے آ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ توانائی نے ماہانہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کی سبسڈی ختم یا تبدیل کرنے کی تمام تر رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، وزارت کے ترجمان نے اپنے وضاحتی بیان میں واضح کیا ہے کہ غریب اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے موجودہ ریلیف پالیسی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے، ریلیف صرف حقداروں تک پہنچانے کے لیے ملک بھر کی تقسیم کار کمپنیوں کو بجلی کے میٹرز کی سخت جانچ پڑتال کا حکم دیا گیا ہے۔
ذرائع وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ 200 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والے ایک عام صارف کو حکومت کی طرف سے ماہانہ تقریباً 5 ہزار روپے تک کی سبسڈی دی جاتی ہے، جس کی بدولت اس کا ماہانہ بل صرف 2 ہزار روپے کے قریب رہتا ہے، اگر یہ سبسڈی ختم کی جاتی تو غریب صارفین کا یہی بل یکدم بڑھ کر 7 ہزار روپے تک جا پہنچتا، حکومت غریب عوام کو اس اضافی معاشی جھٹکے سے بچانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزارتِ توانائی کے حکام نے بتایا ہے کہ ریلیف برقرار رہے گا لیکن سبسڈی کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں ڈسکوز نے فیلڈ آپریشن شروع کر دیا ہے جس میں ایک ہی گھر یا احاطے میں سبسڈی حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے متعدد میٹرز کی نشاندہی کی جا رہی ہے، ایسے خوشحال صارفین جنہوں نے گھروں میں سولر سسٹم لگا رکھے ہیں لیکن ان کا گرڈ کنکشن 200 یونٹ سے کم ظاہر کرکے غریبوں کی سبسڈی کا فائدہ اٹھا رہا ہے، ان کے کنکشنز کا ڈیٹا ری چیک کیا جا رہا ہے۔
200 یونٹ والے بجلی صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی خبریں بے بنیاد قرار




