حرمین شریفین کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، حوثیوں کو سرگرمیاں روکنا ہوں گی، دفتر خارجہ

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے مکہ مکرمہ کی سمت کیے گئے ڈرون حملے اور سعودی عرب پر حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی مسلسل عسکری جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت، پاسبانی اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، حوثیوں کو سرگرمیاں روکنا ہوں گی، پاکستان مکہ معاہدے پر اس کے حقیقی مقصد کے مطابق عمل درآمد کرنے کیلئے پرعزم ہے، تاہم اس کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
دفترِ خارجہ میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ مکہ مکرمہ جیسے تمام مسلمانوں کے مقدس ترین مرکز کو نشانہ بنانے کی ناپاک کوشش ایک انتہائی گھناؤنا، مذموم اور شدید تشویشناک اقدام ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، اس بزدلانہ کارروائی سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں اور اربوں مسلمانوں کے دینی و مذہبی جذبات شدید طور پر مجروح ہوئے ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے بھائی ملک کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑا ہے، پاکستان سعودی عرب کے شہری علاقوں، گنجان آباد شہروں اور دفاعی و معاشی تنصیبات پر حوثی شدت پسندوں کے ان مسلسل اور بزدلانہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
سجاد حیدر خان نے مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے تبدیل ہوتی اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کا انتہائی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے رہی ہے، پاکستان کا ہمیشہ سے یہ واضح اور اصولی مؤقف رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور خطے میں جاری تمام تر تنازعات کے حل کے لیے صرف سفارت کاری اور پرامن مذاکرات ہی واحد اور درست راستہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 15 ستمبر 2026ء کو ایک بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون کے اندر داخل ہو کر پاک بحریہ کے جہاز کے انتہائی قریب خطرناک اور جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی سمندری قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ دوطرفہ معاہدوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے، اس خطرناک اشتعال انگیزی اور سنگین واقعے پر شدید احتجاج درج کروانے کے لیے بھارت کے ناظم الامور کو گزشتہ رات فوراً دفترِ خارجہ طلب کر کے سخت ترین احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا،نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ناظم الامور بھی بھارتی وزارتِ خارجہ میں باقاعدہ طور پر اس واقعے پر احتجاجی مراسلہ پیش کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں