راولپنڈی: پاکستان کی طرف سے جاری آپریشن غضب للحق کے دوران باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں مکمل تباہ کردی گئیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے سلسلے میں پاک افواج کی افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف فیصلہ کن جوابی کارروائیاں جاری ہیں، پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد سے ملحقہ افغان طالبان کی پوسٹوں کو مکمل تباہ کر دیا، پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر گائیڈڈ میزائل کے ذریعے بھی افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا، آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
بتایا جارہا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران 15 مارچ 2026ء سہ پہر 4 بجے تک فتنہ الخوارج افغان طالبان کے 684 دہشت گرد ہلاک اور 912 سے زائد زخمی ہوگئے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کی 252 پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 44 پوسٹوں کو قبضہ میں لے کر تباہ کیا گیا، اسی طرح 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے 73 مقامات کو فضائی کارروائی میں موثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں سمیت فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ان کارروائیوں کے دوران قندھار میں ایک تکنیکی معاونت کا مرکز اور اسلحہ و سازوسامان کے ذخیرہ کی تنصیب بھی تباہ کر دی گئی جسے افغان طالبان اور دہشت گرد پاکستان کے معصوم شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے تھے، قندھار میں ایک سرنگ بھی تباہ کردی گئی جس میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے تکنیکی آلات اور سامان رکھا گیا تھا۔
اسی طرح چترال سیکٹر میں زمینی افواج نے افغانستان کی بدینی پوسٹ پر قائم دہشت گردوں کے لانچ پوائنٹ کو بھی تباہ کر دیا، جہاں پاکستان نے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف ان تنصیبات اور دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا جو افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت کر رہے تھے، اس واقعے میں کسی شہری آبادی یا سول انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا جیسا کہ افغان عبوری حکومت کے بعض عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
آپریشن غضب للحق؛ باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں مکمل تباہ




