اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر نمایاں کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ممکنہ جنگ ٹلی بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی بڑا معاشی فائدہ پہنچا۔ 7 اپریل کو دنیا اس لمحے کے قریب پہنچ گئی تھی جب ڈونلڈ ٹرمپ کے رات 8 بجے کے الٹی میٹم کے مطابق “آج رات پوری تہذیب تباہ ہو سکتی ہے۔
” دوپہر تک پولی مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق جنگ بندی کے امکانات 5 فیصد سے بھی کم رہ گئے تھے۔ لیکن پھر آخری لمحات کی تیز رفتار سفارت کاری، جس کی قیادت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کی، نے صورتحال بدل دی۔ جنگ بندی کے امکانات تقریباً ناممکن سطح سے بڑھ کر 100 فیصد تک پہنچ گئے، جبکہ امریکا اور ایران دونوں کی قیادت نے پاکستان کے اہم کردار کا کھلے عام اعتراف کیا۔
جنگ بندی کے امکانات میں اچانک اس تبدیلی نے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی معاشی قدر کا اندازہ لگانا ممکن بنا دیا۔
How Pakistan made the world over 3 trillion dollars richer
On April 7, the world edged toward Trump's 8pm ultimatum that "a whole civilization will die tonight." By mid-afternoon, Polymarket gave less than a 5% chance for a ceasefire. But then in a flurry of last-minute… pic.twitter.com/fbeOcgDcid
— Atif Mian (@AtifRMian) April 10, 2026
جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں تقریباً 2.9 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا، اور دنیا بھر کی مارکیٹوں میں بھی اسی نوعیت کا ردعمل سامنے آیا۔ عالمی مالیاتی منڈیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 125 کھرب ڈالر ہے، اس لحاظ سے 2.9 فیصد اضافہ دنیا کیلئے تقریباً 3.6 کھرب ڈالر کے فائدے کے برابر بنتا ہے۔
یوں پاکستان نے دنیا کیلئے اپنی مجموعی قومی پیداوار سے دس گنا زیادہ معاشی قدر پیدا کرنے میں مدد دی۔ امید ہے پاکستان اس نئی شناخت کو آگے بڑھائے گا، نہ صرف بیرون ملک امن کے فروغ کیلئے بلکہ اپنے اندر بھی۔ اس کا مطلب تقسیم اور نفرت کی سیاست سے دور ہونا اور ہر شہری کو برابر کا حصہ دار سمجھنا ہے۔




