اسلام آباد : پاکستان نے خلیج فارس سے مائع قدرتی گیس ایل این جی کی دوسری کھیپ کامیابی سے وصول کرلی، جو موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک ہفتے کے دوران خلیج فارس سے ایل این جی کی دوسری بڑی کھیپ درآمد کی ہے، یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے توانائی کی ترسیل کے عالمی راستے شدید متاثر ہیں۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے جمعہ کو گیس کا تازہ ترین کارگو موصول کیا، پاکستان نے اس کارگو کی محفوظ ترسیل کے لیے ایران کے ساتھ خصوصی مذاکرات کیے، جس کے بعد اس کے گزرنے کا راستہ ہموار ہوا، گزشتہ ایک ہفتے میں آنے والی ان دو ترسیلات کا مجموعی حجم تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار ٹن ہے جب کہ فروری کے آخر میں ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک دنیا کا کوئی دوسرا ملک آبنائے ہرمز کے راستے ایل این جی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
بتایا گیا ہے کہ پاکستان وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اس جنگی صورتحال کے باوجود اس اہم بحری راستے سے توانائی کی ترسیل ممکن بنائی ہے، اگرچہ چین اور جاپان کے لیے دو گیس بردار جہاز اس وقت راستے میں ہیں، تاہم پاکستان اس معاملے میں سبقت لے گیا ہے، یہ کامیابی پاکستان کے نئے جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے، جسے اسلام آباد نے اپنے توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا، ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی تعلقات نے اس مشکل وقت میں معاشی ریلیف فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔




