واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آخری وارننگ جاری کر دی، جبکہ پاکستان اس ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین موقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے اب وقت سیکنڈوں میں رہ گیا ہے، ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، انہیں فوری طور پر حرکت میں آنا ہوگا ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا، اس وقت ‘وقت’ ہی سب سے اہم عنصر ہے۔
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے ایک علامتی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں وہ امریکی فوجی افسران کے ہمراہ ایک بحری جہاز پر موجود ہیں، جبکہ پس منظر میں ایرانی پرچم والی کشتی دکھائی دے رہی ہے، اس تصویر کے ساتھ انہوں نے پراسرار کیپشن “طوفان سے پہلے کی خاموشی” تحریر کیا، جسے ماہرین کسی بڑے فوجی ایکشن کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
اب تک خطے میں جنگ بندی برقرار رہنے کا کریڈٹ صدر ٹرمپ نے پاکستان کو دیا، چین کے دورے سے واپسی پر ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر جنگ بندی کے حق میں نہیں تھا، لیکن ہم نے یہ صرف پاکستان کی درخواست پر اور ان کے فائدے کے لیے کیا، اس دوران صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو “شاندار لوگ” قرار دیتے ہوئے ان کے کردار کی تعریف کی۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی اخبار ‘سنڈے ٹائمز’ کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان کے بطور “ایماندار ثالث” کردار پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد منعقد ہو، کیونکہ پہلا دور حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا، خوش قسمتی سے ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک سب پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، فیلڈ مارشل نے ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل ترین سفارتی محاذ پر ہے جہاں وہ ایک طرف امریکہ کے جارحانہ مزاج اور دوسری طرف ایران کے تحفظات کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے، صدر ٹرمپ کی حالیہ دھمکی اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والے اگلے دور کے مذاکرات کے لیے کوئی بڑی کامیابی نہ ملی، تو خطہ ایک ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔




