آئی ایم ایف کے نیٹ میٹرنگ نظام پر تحفظات، پرانے سولر صارفین کو استثنیٰ دینے کی مخالفت کردی

اسلام آباد : عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان میں سولر انرجی کے استعمال اور اس سے جڑے نیٹ میٹرنگ کے نظام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے پرانے سولر صارفین کو نئے نیٹ بلنگ ماڈل سے استثنیٰ دینا معاشی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس سے بجلی کے گرڈ پر مالی بوجھ بڑھے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سولر پالیسی میں نئے اور پرانے صارفین کے لیے دوہرا معیار اپنایا گیا، پہلے سے موجود صارفین کے لیے پرانا نیٹ میٹرنگ کا نظام برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ نئے صارفین کو نیٹ بلنگ کے ماڈل پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پرانے صارفین کو نیٹ بلنگ پر منتقل نہ کرنے سے بجلی کے گرڈ سے سولر صارفین کی طرف کراس سبسڈی کا سلسلہ برقرار رہے گا، اس کا مطلب یہ ہے سولر نہ لگانے والے غریب صارفین پر ملکی گرڈ کے نقصانات کا بوجھ بڑھتا رہے گا، عالمی ادارے نے نیٹ بلنگ ماڈل کو ہی عالمی معیار کے مطابق اور پائیدار قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے گزشتہ ماہ ہی سولر پالیسی میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، اس نوٹیفکیشن کے تحت پہلے سے موجود سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاہدوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، پرانے صارفین کے لائسنس اپنی اصل مدت، جو عام طور پر 3 یا 7 سال ہوتی ہے، تب تک برقرار رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں