اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز کو عوام کے لیے ایک بڑا عذاب قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا، سینیٹ کمیٹی نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فکسڈ چارجز کے فوری خاتمے کے ایجنڈے پر اگلی ہیٹنگ میں توانائی وزارت کے اعلیٰ حکام کو طلب کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں بجلی کے بلوں میں اوور بلنگ، فکسڈ ٹیکسز اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹیز کے حوالے سے بریفنگز دی گئیں، اجلاس کے دوران بجلی کے بلوں میں لگے فکسڈ چارجز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا پھٹ پڑے اور انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والا سچا واقعہ ایوان کے سامنے رکھ دیا۔
سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ بجلی کے بلوں پر فکسڈ چارجز اس وقت ملک کی غریب عوام کے لیے عذابِ الٰہی بن چکے ہیں، میرے اپنے پارلیمنٹ لاجز کے بجلی کے یونٹس کی اصل قیمت صرف 6 ہزار 200 روپے ہے، لیکن اس بل کے اوپر حکومت نے 6 ہزار 800 روپے کے فکسڈ چارجز لگا دیئے ہیں یعنی اصل بجلی سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، اس ظالمانہ نظام کی وجہ سے جو غریب بندہ صرف 100 یونٹس استعمال کر رہا ہے، اسے فکسڈ چارجز کی وجہ سے 400 یونٹ کے برابر پیسے دینے پڑ رہے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوسرے حصے میں سیکرٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو نئے بجٹ میں کسٹمز اور امپورٹ ڈیوٹیز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی کہ حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی ٹیرف میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، ڈیوٹیز میں اس کمی کی وجہ سے حکومت کو مجموعی طور پر 143 ارب روپے سے زائد کا ریونیو نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
سینیٹ خزانہ کمیٹی نے بجلی بلوں میں فکسڈ چارجز کو عوام کیلئے عذاب قرار دیدیا، فوری خاتمے کا مطالبہ




