نواز شریف کا 27 ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد : نواز شریف کا 27 ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کا فیصلہ،وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے قائد مسلم لیگ ن کے اسمبلی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے تصدیق کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماوں کی جانب سے نواز شریف کے 27 ویں ترمیم کو ووٹ دینے کے فیصلے کے حوالے سے وضاحت دی گئی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سے متعلق گزشتہ چند روز سے قیاس آرائیاں جاری ہیں، تاہم مسلم لیگ ن کے قائد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور 27 ویں ترمیم کو ووٹ بھی دیں گے، حکومت کا ارادہ ہے کہ بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے 27 ویں ترمیم منظور کروا لیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اسد قیصر نے کہا ہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی اورجےیوآئی کے سینیٹرر کو زبردستی اور لالچ دے کر ان سے ووٹ لیا گیا، کیا آئینی ترامیم ایسے پاس ہوتی ہے؟ ایکس پر اپنے بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی کے ہمراہ صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا میں کل بروزبدھ 10بجے منعقد ہونے والے امن جرگہ کے سلسلے میں انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پرممبران قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی ممبران سمیت دیگر متعلقہ افسران و انتظامی عملہ بھی موجود تھا۔ اسد قیصر نے کہا کہ بہت افسوس ہے جس طرح 27ویں آئینی ترمیم کو پاس کیا گیا ۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی اور جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر کو زور زبردستی یا لالچ دے کر ان سے ووٹ لیا گیا ۔کیا آئینی ترامیم ایسے ہوتی ہے پوری دنیا میں رواج ہے کہ جب بھی ملک کے آئین میں کوئی ترمیم لانی ہوتی ہے تو سب کو ان بورڈ لیا جاتا ہے ایک کنسنس کے ساتھ ترمیم کی جاتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں