نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کا اعلان کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین ایئر فورس کی جانب سے پاکستان کی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، جن کا مقصد فضائی صلاحیتوں کا جائزہ لینا اور آپریشنل تیاریوں کو مزید مضبوط بنانا ہے، یہ مشقیں سرحدی ریاستوں میں منعقد کی جائیں گی جن میں لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ائیر ڈیفنس سسٹمز حصہ لیں گے۔
بھارتی فضائیہ کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان مشقوں کے دوران فضائی حملوں کی مشق، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور جدید جنگی حکمتِ عملیوں کا جائزہ لیا جائے گا، یہ معمول کی ٹریننگ مشقیں ہیں جن کا مقصد اہلکاروں کی مہارت بڑھانا ہے۔
دوسری طرف اس پیشرفت پر سکیورٹی ماہرین اسے خطے کی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں، پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تاہم اس سلسلے میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی صورتحال میں کسی بھی عسکری سرگرمی کو خطے کے امن کے لیے حساس تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری طرف بھارتی اخبار دی ہندو کی جانب سے 2025ء کو بھارت کی عالمی سطح پر سفارتی سبکی اور ملکی خارجہ پالیسی کو توقعات پر پورا نہ اترنے پر وعدوں کے بکھرنےکا سال قرار دے دیا گیا، پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو سنگین سکیورٹی ناکامی اور پہلگام حملے کے بعد بھارتی عسکری کارروائیوں کوسفارتی سطح پر عالمی حمایت نہ ملنے کا اعتراف بھی کیا۔
بھارتی اخبار دی ہندو نے لکھا کہ علامتی سفارتکاری، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی حقیقی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا نعم البدل ثابت نہ ہو سکی، بھارت نے نا صرف خود سے بلکہ شراکت داروں سے ایسے وعدے کئے جن پر عملدرآمد کیلئے اس کے پاس اثرورسوخ اور قوت موجود نہیں تھی، امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے 2025ء بھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا، امریکہ کے 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل پر اضافی پابندیاں اورایچ ون بی ویزہ قدغنوں نے ثابت کر دیا کہ بھارت کی واشنگٹن کے ساتھ شراکت مشروط اور مفاداتی ہے۔
انڈین اخبار نے لکھا کہ 2017ء کے مقابلے میں 2025ء کی امریکی نیشنل سکیورٹی سٹریٹجی میں بھارت کو محدود کردار تک سمیٹ دیا گیا ہے، چین اور روس کے حوالے سے تمام تر اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس سکیورٹی پیشرفت نہیں ہو سکی، سرمایہ کاری رکاوٹیں برقرار رہیں اور بھارت محض علامتی موجودگی تک محدود رہا، امریکی دباؤ کے نتیجے میں بھارت کو روسی تیل کے معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
دی ہندو مزید لکھتا ہے کہ بھارت کے آپریشن سندور کے بعد طیاروں کے نقصانات پر خاموشی نے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، پاک سعودی باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان بھارت کے لیے ایک اضافی دھچکا تھا جب کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات اب تک کی سب سے کشیدہ سطح پر پہنچ چکے ہیں، بھارت وشو گرو کے بیانیے سے نکل کر وشو وکٹم کی طرف بڑھ رہا ہے، بھارت کا دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا اصلاح اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔




