ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 571 تک پہنچنے کی اطلاعات

تہران:ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 571 تک پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکہ میں مقیم انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ہونے والے مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 571 تک پہنچ چکی ہے کیوں کہ اسلامی جمہوریہ کے مذہبی حکمرانوں کو برسوں میں اختلاف کی سب سے بڑی لہر کا سامنا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پرتشدد مظاہروں میں اب تک 2 ہزار 403 مظاہرین اور 147 حکومت سے وابستہ افراد جان کی بازی ہار گئے، 18 سال سے کم عمر کے 12 افراد اور نو غیر احتجاجی شہریوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے، جب کہ پہلی بار ایرانی حکام نے بھی ملک بھر میں دو ہفتوں سے زیادہ کی بدامنی کے نتیجے میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد بتائی، اس سلسلے میں ایک ایرانی اہلکار نے بتایا کہ اب تک تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ احتجاج جاری رکھیں، اس دوران ان سے مدد کا وعدہ بھی کیا جا رہا ہے، جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ’مدد پہنچ رہی ہے‘ سے ان کی کیا مراد ہے؟‘ اس پر ٹرمپ نے صحافیوں کو جواب دیا کہ ’صحافیوں کو خود اس کا پتہ لگانا پڑے گا، فوجی کارروائی ان آپشنز میں شامل ہے جو وہ شہریوں کیخلاف کریک ڈاؤن پر ایرانی حکومت کو سزا دینے کے لیے سوچ رہے ہیں‘۔
بتایا جارہا ہے کہ سنگین معاشی حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والی بدامنی نے کم از کم تین سالوں سے ایران کے حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا اندرونی چیلنج بنا رکھا ہے اور یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد بین الاقوامی دباؤ میں شدت آئی، ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر ملک میں تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا اور ان ہلاکتوں کا الزام دہشت گرد عناصر پر لگایا ہے جو شہریوں کو اکسانے کے لیے مبینہ طور پر غیر ملکی رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں