گل پلازہ آتشزدگی؛ 2 فلور کلیئر ہونے تک 26 لاشیں برآمد، درجنوں افراد اب بھی لاپتہ

کراچی : صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد 2 فلور کلیئر ہونے تک 26 لاشیں برآمد ہوگئیں جب کہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں، واقعے سے متعلق نئے ہولناک انکشافات سامنے آگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں کی کارروائیاں جاری ہیں جہاں دو فلورز کو کلیئر کردیا گیا ہے، ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ آگ سے متاثر ہونے والے گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور پہلے فلور کو کلیئر کیا گیا ہے، رات مزید دو لاشیں ملی ہیں جس کے بعد آگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہو گئی، فی الحال 74 لاپتا افراد کی تصدیق ہوئی ہے جن کی تلاش کیلئے دوسرے اور تیسرے فلور میں داخلے کی کوشش کررہے ہیں جس کے لیے کٹر کی مدد سے گرل کاٹ رہے ہیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا بتانا ہے کہ اب تک 20 لاشیں سول ہسپتال لائی گئی ہیں، 14 لاشوں کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، 14 میں سے 7 لاشوں کی شناخت مکمل ہوچکی ہے، ساتویں لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے ممکن ہوئی، متوفین کی شناخت کے لیے 48 اہل خانہ کے نمونے مل چکے ہیں، تمام نمونے سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری بھیجے ہیں، ڈی این اے ٹیسٹ انٹرنیشنل سینٹرفارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی میں ہوں گے، جائے وقوعہ سے کچھ انسانی اعضاء بھی لائے گئے جن پر کام جاری ہے۔
متاثرہ دکانداروں نے بتایا ہے کہ عمارت کے کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں، رات 10 بجے تمام گیٹ بند کرکے صرف دو دروازے کُھلے رکھے جاتے ہیں، سانحے کے وقت عمارت میں موجود لوگوں کو معمول کے مطابق 26 میں سے 24 دروازے بند ملے، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا اور آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی، پوری مارکیٹ میں دھواں ہی دھواں بھر چکا تھا، آگ کے وقت بجلی بند تھی جس کی وجہ سے کسی کو کچھ سمجھ اور نظر نہیں آ رہا تھا، جس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی، دھوئیں کی وجہ سے محصور افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری ہوئی واقعے کے وقت دکانوں پر ورکرز اور گاہک موجود تھے، آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں