مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے بالکل قریب تھے، ایرانی وزیرخارجہ نے معاہدہ نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ بتادی

تہران:ایران کے وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں معاہدہ نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ بتادی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 47 برس میں پہلی بار اعلیٰ ترین سطح پرمذاکرات ہوئے جہاں جنگ کے خاتمے کیلئے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی، اسلام آباد مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے لیکن حد سے زیادہ شرائط اور پل پل بدلتے ہوئے مؤقف کی وجہ سے معاہدہ نہ ہوسکا کیوں کہ کوئی سبق ہی نہیں سیکھا گیا کہ نیک نیتی سے نیک نیتی جنم لیتی ہے، اگر دشمنی کروگے تو اس سے مزید دشمنی پیدا ہوگی۔

اسی حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنا زیادہ دور نہیں، ایران دیرپا امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے تیار ہے‘، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کے روز اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا۔
بتایا گیا ہے کہ دونوں صدور نے مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا، صدر پزشکیان نے اپنے روسی ہم منصب کو بتایا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک متوازن اور منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جو مستحکم امن اور سلامتی کی ضمانت ہو، ایرانی صدر نے پوٹن کے ساتھ گفتگو میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کا جائزہ لیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز سمیت روس کے اصولی مؤقف کے لیے شکریہ ادا کیا، جس کا مقصد کشیدہ صورتحال کو کم کرنا ہے، پزشکیان نے روس کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کے لیے بھی روسی صدر کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں