اسلام آباد: معروف صحافی کامران یوسف نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور مثبت پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں صحافی کامران یوسف کے حالیہ دعوے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے ساتھ دوبارہ مکمل طور پر تعلقات کو پہلے جیسے معمول پر لانے کے لیے خاموش سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں، یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی ممالک کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
کامران یوسف کا کہنا ہے کہ اماراتی فیصلہ سازوں کے اندر اس بات کا شدت سے احساس پیدا ہوا ہے کہ پاکستان ایک انتہائی اہم ملک ہے اور اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یعنی متحدہ عرب امارات کی قیادت نے محسوس کیا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اور تزویراتی حیثیت ایسی ہے کہ اس کے ساتھ تعلقات میں خرابی امارات کے اپنے طویل المدتی مفادات کے حق میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی سابقہ سخت گیر پالیسی میں واضح تبدیلی کی ہے، ماضی کے برعکس ابوظہبی اب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعہ کو طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا حامی بن کر ابھرا ہے۔
IMPORTANT NEWS
The UAE has quietly reached out to Pakistan, seeking re-engagement.
The move comes after an apparent realization among Emirati decision-makers that Pakistan is too important a country to be on the wrong side of.
There is also a shift in the UAE’s policy. Unlike…
— Kamran Yousaf (@Kamran_Yousaf) May 19, 2026
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات نا صرف پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے بلکہ وہاں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جو ملک کے لیے کثیر زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں، اگر صحافی کامران یوسف کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے پاکستان کی معیشت اور خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، اس بدلتی ہوئی پالیسی میں پاکستان کا کردار کلیدی ہو سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں اور فریقین کے بقول وہ اس تنازعہ میں ایک بہترین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے




