واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا باقاعدہ متن سامنے آ گیا، جس کی تفصیلات امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار کی جانب سے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں، یہ متن ایک سرکاری افسر نے میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنایا، ابھی اس کی باقاعدہ شائع شدہ کاپی جاری ہونا باقی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق معاہدے میں دونوں ممالک نے جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا، معاہدے کے تحت ایران بحری تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحال کرے گا، امریکہ ایران پر عائد کردہ بحری ناکہ بندی کو ختم کر دے گا، دونوں ملکوں کے درمیان جوہری پروگرام پر حتمی مذاکرات کے لیے دو ماہ کی مہلت مقرر کی گئی ہے، اس عبوری دورانیے میں ایران کو اپنا خام تیل فروخت کرنے کی عبوری اجازت مل گئی، اگر ایران ایٹمی پروگرام سے متعلق حتمی تصفیے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو اسے اربوں ڈالر کا خطیر اقتصادی پیکیج بھی فراہم کیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ ایم او یو کے پہلے نکتے میں امریکہ اور ایران نے جنگ میں شامل اپنے تمام اتحادیوں کے ہمراہ اس دستاویز کی توثیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تمام فرنٹ لائنز بشمول لبنان میں جنگی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روک دی جائیں گی، دونوں ممالک آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی جنگ یا فوجی مہم جوئی کا آغاز نہیں کریں گے، نہ ہی طاقت کے استعمال کی دھمکی دیں گے، لبنان کی خودمختاری اور اس کی جغرافیائی حدود کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور حتمی معاہدے میں بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کی جائے گی۔
دوسرے نکتے میں طے پایا ہے کہ امریکہ اور ایران نے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری، طرزِ حکومت اور ملکی حدود کا مکمل احترام کریں گے اور کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے دور رہیں گے۔
تیسری شق میں دونوں ممالک نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کی مدت کے اندر حتمی اور مستقل معاہدے کی تیاری کے لیے اپنے مذاکرات مکمل کریں گے، باہمی رضامندی کی صورت میں اس وقت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
معاہدے کے چوتھے پوائنٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ فوری طور پر ایران کے خلاف نافذ اپنی بحری ناکہ بندی اور ہر قسم کی تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کا عمل شروع کرے گا، 30 دنوں کے اندر اس ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا، اس دوران سمندری تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو اسی سطح پر واپس لایا جائے گا جو جنگ کے آغاز سے پہلے تھی، امریکہ نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ قطعی معاہدے کے 30 دنوں کے اندر وہ ایران کے قریبی خطوں سے اپنی تمام افواج واپس بلا لے گا۔
پانچواں نکتہ یہ کہتا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی ایران اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خلیجِ فارس سے لے کر بحیرہ عمان تک تجارتی بحری جہازوں کو 60 دنوں کے لیے بغیر کسی کسٹم فیس یا ٹیکس کے بالکل مفت اور محفوظ گزرگاہ فراہم کی جائے، تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کا فوری آغاز کر دیا جائے گا اور سمندری راستوں سے جنگی رکاوٹیں اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے بعد 30 دن کے اندر اس نظام کو بحال کر دیا جائے گا، ایران آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات کیلئے عمان و خلیج کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر مشاورت کرے گا۔
چھٹی شق میں امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ خطے کے دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مستقل منصوبہ مرتب کرے گا، جس کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، اس منصوبے کو نافذ کرنے کا طریقہ کار 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کا حصہ بنایا جائے گا اور اس کے لیے تمام لازمی مالیاتی اجازت نامے اور لائسنس امریکہ خود جاری کرے گا۔
ساتویں نکتے میں امریکہ نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے کہ وہ ایران پر عائد ہر قسم کی معاشی و سیاسی پابندیاں منسوخ کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی پابندیاں اور امریکہ کی یکطرفہ عائد کردہ تمام پابندیاں شامل ہیں، ان پابندیوں کو ہٹانے کا باقاعدہ ٹائم ٹیبل حتمی معاہدے میں طے کیا جائے گا، دونوں ممالک نے تسلیم کیا ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے جس پر فوری گفتگو کی جائے گی۔
آٹھواں نکتہ واضح کرتا ہے کہ ایران نے عالمی برادری کے سامنے اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا، ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف کرنے کے لیے ایک ایسا طریقہ کار بنایا جائے گا جس کے تحت بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی براہِ راست نگرانی میں اس مواد کو موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا جائے، دونوں ممالک حتمی معاہدے میں ایران کی جائز نیوکلیئر ضروریات پر مزید تبادلہ خیال کرنے پر بھی راضی ہو گئے ہیں۔
ایم او یو کا نواں پوائنٹ بتاتا ہے کہ جب تک حتمی اور مستقل معاہدہ طے نہیں پا جاتا، دونوں ممالک موجودہ صورتحال کو برقرار رکھیں گے یعنی ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو موجودہ سطح پر ہی روکے رکھے گا جبکہ امریکہ اس دوران کوئی نئی پابندی عائد نہیں کرے گا اور نہ ہی خطے میں اضافی فوج بھیجے گا۔
دسویں شق میں امریکہ نے اس بات کا ذمہ لیا ہے کہ دستخط ہوتے ہی امریکی محکمہ خزانہ ایران کو اپنا خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے سمیت بینکنگ، انشورنس اور جہاز رانی کی سہولیات استعمال کرنے کے لیے عارضی لائسنس جاری کرے گا، جو پابندیوں کے مکمل خاتمے تک کارآمد رہیں گے۔
گیارہویں نکتے میں امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد شروع ہوتے ہی ایران کے روک دیے گئے تمام منجمد اثاثے اور رقوم مکمل طور پر بحال کر دی جائیں گی، ان فنڈز کو ایران کا مرکزی بینک اپنی صوابدید کے مطابق کسی بھی ضرورت کے لیے آزادی سے استعمال کر سکے گا اور امریکہ اس سلسلے میں تمام قانونی دستاویزات جاری کرے گا۔
بارہویں شق میں دونوں ممالک اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ اس پورے امن معاہدے کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی اور انتظامی فریم ورک قائم کیا جائے گا، جو اس بات کا جائزہ لے گا کہ تمام فریقین اپنے وعدوں پر سختی سے عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔
تیرہویں نکتہ میں یہ طے پایا ہے کہ اس دستاویز پر دستخط ہونے اور جنگ بندی، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، تیل کی فروخت اور منجمد فنڈز کی واپسی جیسے بنیادی نکات پر عملدرآمد کا آغاز ہوتے ہی، دونوں ممالک دیگر باقی ماندہ معاملات پر مستقل معاہدے کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کر دیں گے۔
امریکہ ایران ایم او یو کے 14 نکات کی تفصیل جاری




