Warning: mysqli_query(): (HY000/1194): Table 'wpci_stylo_views' is marked as crashed and should be repaired in /home/dailyrapd/public_html/wp-includes/wp-db.php on line 2056

Warning: mysqli_query(): (HY000/1194): Table 'wpci_stylo_views' is marked as crashed and should be repaired in /home/dailyrapd/public_html/wp-includes/wp-db.php on line 2056

رانا شمیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد : حکومت نے سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ااس حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے چیف کمشنر اسلام آباد کو مراسلہ جاری کر دیا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ رانا شمیم کو ہائیکورٹ کے سامنے توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا ہے۔ خدشہ ہے کہ رانا شمیم ملک سے فرار ہو سکتے ہیں۔ مراسلے کے متن میں کہا گیا کہ رانا شمیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 13 دسمبر کو ہے، نام فوری ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز اسلام اباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ توہین عدالت کا استعمال جج کی عزت بچانے کے لیے نہیں مفاد عامہ کیلئے ہے، توہین عدالت کیس عدالت اور توہین کنندہ کے درمیان ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ توہین عدالت کیس میں کیسےفریق بن سکتےہیں؟ اس پر وکیل نے کہا کہ سابق چیف جسسٹس ثاقب نثار سے متعلق سب معلومات رکھتا ہوں۔

درخواست گزار کے وکیل رائے نواز کھرل نے استدعا کی کہ رانا شمیم کا نام ای سی ایل پر ڈالا جائے یا انہیں پاسپورٹ سرینڈرکرنے کا کہا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ اگر رانا شمیم بیرون ملک فرار ہو گئے تو تمام کارروائی بے سود ہوگی۔ اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے اس عدالت کا کام تو نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل پر درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کچھ دیر بعد سنایا اور درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔