آپس کے اختلافات ختم کریں اور تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، خطبہ حج

مکہ مکرمہ : امامِ مسجدِ نبوی ﷺ الشیخ علی الحذیفی نے خطبہِ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا کی فانی زندگی سے دل لگانے کے بجائے توحید کا دامن تھامیں اور آخرت کی تیاری کریں۔ تفصیلات کے مطابق مسجدِ نمرہ سے دیئے گئے خطبے میں خطیبِ حج نے فرمایا کہ اللہ ہی واحد سچا معبود ہے، اس کے سوا کسی غیر کی عبادت مت کرنا، اہل ایمان کا بنیادی خاصہ ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی توحید پر عمل پیرا رہتے ہیں، قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، لہٰذا نیکیاں کرکے اور گناہ و برائیاں چھوڑ کر قیامت کے دن کی تیاری کی جائے، آخرت کی تیاری کا سب سے اہم عمل توحید اور اللہ کی خالص عبادت اختیار کرنا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب ایمان والوں کے سامنے اللہ کی آیات پیش کی جائیں، تو ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، ہمیشہ سچ بولیں، غلط بیانی سے مکمل گریز کریں اور آپس میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں، نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبین ہیں، توحید پر عمل درآمد اور نبی ﷺ کی سنت کی پیروی ہی ایمان کا اصل حصہ ہے۔
الشیخ علی الحذیفی نے مسلمانوں کو سبق دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اللہ کی تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے، اللہ کی نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کرنا سیکھیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے ظلم کیا اور ناشکری کی، ان سے اللہ کی نعمتیں چھین لی گئیں، مسلمانوں کو ہر مصیبت اور مشکل میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔
خطیبِ حج نے مسلم امہ کے زوال کا حل بتاتے ہوئے فرمایا کہ آج امت کو سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامیں، اپنے آپس کے تمام اختلافات اور انتشار کو ختم کریں اور تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، حجاجِ کرام میدانِ عرفات میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا غیر متعلقہ مہم سے مکمل گریز کریں اور ایسی حرکتیں نہ کریں جو دیگر حجاج کے لیے پریشانی اور امن و امان کے مسائل کا سبب بنیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں