نصف صدی قبل فحش فلموں کی اداکاراﺅں کیساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا؟ امریکی اداکارہ بول پڑیں

نیویارک: آج فحش فلم انڈسٹری سے کنارہ کش ہونے والی کئی اداکارائیں لڑکیوں کو متنبہ کر رہی ہیں کہ یہ انڈسٹری باہر سے جتنی پرکشش نظر آتی ہیں، اندر سے اتنی ہی خوفناک ہے جہاں خواتین کو جنسی، جسمانی اور مالی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان سے ایسے معاہدوں پر دستخط کرا لیے جاتے ہیں کہ وہ جنسی غلام بن کر رہ جاتی ہیں تاہم فحش فلموں کی امریکی اداکارہ امبر لین نے 1980ءکی دہائی اور اس سے پہلے کی فحش فلم انڈسٹری کے متعلق حیران کن انکشافات کر دیئے ہیں۔ 56سالہ امبر لین نے بتایا ہے کہ 1980ءکی دہائی میں اور اس سے قبل فحش فلموں کی اداکاراﺅں کے ساتھ ہر جگہ شاہانہ سلوک ہوتا تھا اورمداحوں کے جھرمٹ ان کی ایک جھلک کے لیے ترستے تھے۔

امبرلین کا کہنا ہے کہ آج کی فحش فلم انڈسٹری اس وقت کی انڈسٹری سے یکسر مختلف ہے۔ جب میں نے لاس اینجلس آ کر فحش فلم انڈسٹری میں کیریئر شروع کیا تو ہمیں کوکین و دیگر منشیات وافر مہیا ہوتی تھی۔ ہمارے ہر جگہ یوں آﺅ بھگت ہوتی تھی جیسے ہم کسی شاہی خاندان کی فرد ہوں۔ ہم فحش فلموں کی اداکارائیں جہاں بھی جاتیں، ہمیں لینے کے لیے لیموزین آیا کرتی تھی اور ہر جگہ ہمارے مداحوں کے جم غفیر ہوا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ امبر لین منشیات رکھنے اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے جیسے الزامات میں سزا بھی پا چکی ہیں۔

ضرور پڑھیں  وہ آدمی جسے بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے اس کی بیوی نے طلاق دے دی

اپنا تبصرہ بھیجیں