آسٹریلیا: پارلیمان میں برقعہ پہن کر آنے والی رکن معطل

اسلام آباد : آسٹریلیا کی سینیٹ نے منگل کے روز انتہائی دائیں بازو کی سینیٹر پولین ہینسن کو اس وقت سات روز کے لیے معطل کر دیا، جب وہ عوامی مقامات پر مسلم لباس پر پابندی کے اپنے مطالبے کی مہم کے لیے برقع پہن کر ایوان میں پہنچیں۔ بیشتر قانون سازوں کی طرف سے ان کی اس حرکت کی مذمت کی گئی۔

پولین ہینسن عوامی مقامات پر برقع اور چہرے کو ڈھانپنے والے لباس کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور جب انہیں اس پر پابندی کا بل پیش کرنے کی اجازت نہیں ملی، تو وہ پیر کے روز ایوان بالا میں نقاب پہن کر پہنچ گئیں۔

ان کے اس اقدام پر تنقید کی گئی اور خاص طور پر مسلم قانون سازوں نے ان کی اس حرکت کے لیے ان “نسل پرستی” کے الزامات عائد کیے ہیں۔

سینیٹ میں مرکزی بائیں بازو کی لیبر حکومت کی قائد اور ملک کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا، “سینیٹر ہینسن کی نفرت انگیز اور اتھل پتھل ہمارے سماجی تانے بانے کو تہس نہس کرنے کا کام کرتی ہے اور میرے خیال سے یہ آسٹریلیا کو کمزور بناتا ہے، اور ہمارے بہت سے کمزور لوگوں کے لیے بھی اس کے ظالمانہ نتائج نکلتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا، “سینیٹر ہینسن نے ایک پورے عقیدے کا مذاق اڑایا اور اس کی توہین کی ہے۔ ایک ایسا عقیدہ جس پر تقریباً ایک ملین آسٹریلوی باشندے یقین رکھتے۔۔۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کوئی بھی (پارلیمنٹ) کی اس قدر بے عزتی کرے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں