واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کردیں گے، اب ایران اپنا تیل نہیں بیچ سکے گا۔ امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی برقرار ہے اور چیزیں بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رہے ہیں، ایران کی فوج تباہ کر دی، اور نیوی سمندر میں ڈبو دی ہے، ایرانی بحریہ کے 158 بحری بیڑے بھی تباہ کر دیئے ہیں، آج صبح 10 بجے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دیں گے۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، یہ بات واضح ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی صلاحیت نہیں ہوگی، ایران نے وعدہ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولے گا لیکن اس نے جھوٹ بولا، ایران اس وقت بری صورتحال میں ہے کیوں کہ اب ایران اپنا تیل نہیں بیچ سکے گا جب کہ ہمارے پاس روس اور سعودی عرب سے بھی زیادہ تیل ہے۔
علاوہ ازیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی نمائندے مذاکرات میں ایرانی قیادت سے خوشگوار اور باوقار تعلقات قائم کر چکے تھے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیوں کہ وہ سب سے اہم مسئلے پر سخت مؤقف پر قائم رہے، ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، کئی حوالوں سے طے پانے والے نکات فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر ہیں، برسوں سے کہہ رہا ہوں ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر غیر مستحکم اور غیر متوقع افراد کے پاس جوہری طاقت آجائے تو مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جو بھی ہمارے جہازوں پر فائرنگ کرے گا اسے تباہ کریں گے، ہم آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کریں گے، ناکہ بندی ہوگی اور دوسرے ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے، اپنی نیوی کو کہا ہے ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو تلاش کریں، جو بھی ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں ملے گا، ہمیں لگا تھا آبنائے ہرمز پر جہازوں کو آزادانہ آنے جانے کی اجازت ہوگی مگر ایران نے ایسا نہیں ہونے دیا۔




