واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے کا مسودہ ابھی مکمل طور پر فائنل یا طے نہیں ہوا، تاہم یہ نیا معاہدہ سابق صدر باراک اوباما کے دور کی نیوکلیئر ڈیل کے بالکل برعکس اور امریکہ کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوگا۔ امریکی ٹی وی چینل ‘اے بی سی’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر تنقید کرنے والے اپنے سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر جو لوگ اس ڈیل پر بلاوجہ تنقید کر رہے ہیں، وہ درحقیقت ناکام لوگ ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ہمارے اس معاہدے کو ابھی تک کسی نے دیکھا ہی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی یہ جانتا ہے کہ اس کے اندر کیا شرائط لکھی گئی ہیں، اس لیے ان ناکام لوگوں کی باتوں پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سابقہ حکمرانوں کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مجھ سے پہلے آنے والے صدور اوباما اور بائیڈن انتظامیہ کو یہ انتہائی حساس اور سنگین مسئلہ کئی سال پہلے ہی حل کر لینا چاہیے تھا، لیکن ان کی نااہلی کی وجہ سے یہ معاملہ لٹکا رہا، ہم امریکی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، ایران سے متعلق بہت جلد صرف اچھی اور مثبت خبر ہی سامنے آئے گی۔
انہوں نے فخریہ انداز میں کہا کہ میری تاریخ گواہ ہے کہ میں کبھی کوئی بُری یا کمزور ڈیل نہیں کرتا، ایران سے متعلق اچھی خبر ہی ہوگی، تاہم اس تاریخی ڈیل کا مکمل ہونا یا نہ ہونا اب تمام تر ایران کے رویے اور ان کے فیصلے پر ہی منحصر ہے۔
میں کوئی بُری ڈیل نہیں کرتا، ایران سے متعلق اچھی خبر ہی ہوگی، ٹرمپ




