لاہور : لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کی جانب سے طلب سے زائد بجلی کی دستیابی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود صوبائی دارالحکومت کے متعدد علاقے بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی لپیٹ میں ہیں، شدید گرمی کی لہر کے دوران گھنٹوں بجلی کی بندش اور وولٹیج کے اتار چڑھاؤ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لیسکو حکام کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت لیسکو ریجن میں بجلی کی کل طلب 4 ہزار 033 میگاواٹ ہے، جبکہ کمپنی کے سسٹم میں 4 ہزار 250 میگاواٹ بجلی دستیاب ہے یعنی لیسکو کے پاس مانگ سے زائد بجلی موجود ہے اور پورے ریجن میں طلب، رسد اور ترسیل کے نظام میں واضح توازن برقرار ہے، اس لیے کہیں بھی لوڈشیڈنگ کا جواز نہیں بنتا، تاہم سرکاری دعووں کے برعکس لاہور کے مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے لیسکو کے دعووں کی قلعی کھول دی۔
بتایا گیا ہے کہ شمع، گلبرگ، آؤٹ فال روڈ اور این ایف سی سمیت کئی گنجان آباد علاقوں کے صارفین نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے کیوں کہ ان علاقوں میں روزانہ 4 سے 5 گھنٹے کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جس کا کوئی شیڈول جاری نہیں کیا گیا، صارفین نے شکایت کی ہے کہ بجلی آنے کی صورت میں بھی وولٹیج انتہائی کم ہوتے ہیں، جس سے پنکھے اور ائیر کنڈیشنر کام نہیں کرتے۔
بتایا جارہا ہے کہ بجلی کے بار بار آنے اور جانے کی وجہ سے شہریوں کے گھروں میں موجود قیمتی برقی آلات، فریج، اے سی اور دیگر الیکٹرانک اشیاء خراب اور جل رہی ہیں، جس سے عوام کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، اس صورتحال میں شہریوں نے لیسکو انتظامیہ اور حکومت سے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر سسٹم میں واقعی بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، تو پھر اس جھلسادینے والی گرمی میں عوام کو لوڈ شیڈنگ کا عذاب کیوں جھیلنا پڑ رہا ہے؟۔
کاغذوں میں بجلی سرپلس، زمین پر عوام بے حال؛ لاہور کے متعدد علاقوں میں گھنٹوں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ




